زمیں کا حق
بھلا یہ کیسی دُنیا ہے
ہوائیں جس کی آلودہ
زمیں زخمی، شجر مُردہ
جہاں انسان افسُردہ
زمیں پر جب تجھے بھیجا
نوازا بے پناہ اس کو
فرشتے رشک کرتے تھے
فلک سے دیکھ کر جس کو
تجھے معلوم ہی کیا ہے
زمیں کو کیوں سجایا تھا
خدا کو پاس تھا اس کا
کہ تُو جنت سے آیا تھا
تُو وہ انسان ہے جس نے
ترقی ہی ترقی کی
کبھی تُو چاند پر پہنچا
کبھی صحرا میں کھیتی کی
تُو ہی وہ ذات ہے، اشرف
خدا نے بھی کہا جس کو
مگر دیکھا گیا تم میں ہی
کچھ فرعون جیسوں کو
ارے انسان تُو نے ہی
حماقت پر حماقت کی
بُھلا کر تُو نے حق گوئی
جو باطل کی حمایت کی
ذرا اب سوچ کو اپنی
تُو کچھ بیدار ہونے دے
بچا لے رُوح دُنیا کی
زمیں کو سانس لینے دے
مسکان ریاض
No comments:
Post a Comment