Sunday, 5 September 2021

ہم زندگی کا حلیہ کہاں تک سنوارتے

 ہم زندگی کا حلیہ کہاں تک سنوارتے

ہر سمت دُکھ ہی دُکھ تھے کہاں تک سہارتے

اچھا کیا کے خود ہی چلے آئے بزم سے

ورنہ نکالے جانے کا دُکھ بھی سہارتے

جب تک نظر نے کام کیا، دیکھتے رہے

کب ایسا حوصلہ تھا اسے ہم پکارتے

کب بے وفا نے ہم کو سنبھلنے دیا ندیم

حسرت رہی کے ہم بھی کبھی رُخ نکھارتے


ندیم اعجاز

No comments:

Post a Comment