ہم زندگی کا حلیہ کہاں تک سنوارتے
ہر سمت دُکھ ہی دُکھ تھے کہاں تک سہارتے
اچھا کیا کے خود ہی چلے آئے بزم سے
ورنہ نکالے جانے کا دُکھ بھی سہارتے
جب تک نظر نے کام کیا، دیکھتے رہے
کب ایسا حوصلہ تھا اسے ہم پکارتے
کب بے وفا نے ہم کو سنبھلنے دیا ندیم
حسرت رہی کے ہم بھی کبھی رُخ نکھارتے
ندیم اعجاز
No comments:
Post a Comment