Wednesday, 5 January 2022

گرچہ حاصل ہیں مجھے خامہ و قرطاس مگر

 گرچہ حاصل ہیں مجھے خامہ و قرطاس مگر

ضبطِ تحریر میں آتا نہیں احساس مگر

جانتا ہوں کہ وہ بیٹھا ہے مِرے پاس مگر

فاصلہ دیکھ رہا ہے دلِ حسّاس مگر

سچ یہی ہے کہ سُکوں بخش ہے افلاس، مگر

فُقر ہر شخص کو آتا ہی نہیں راس مگر

خوف و دہشت کے تسلّط میں رہے ہیں بے کس

وہ جو ڈرتے تھے کبھی، ہو گئے بِن داس مگر

فصل کی چاہ میں سینچا ہے لہو بھی میں نے

کشتِ زرخیز میں اُگتی ہے بہت گھاس مگر

فاقہ کش سوچ رہا ہے، کہ خزِینہ مِل جائے

پیٹ بھر سکتے نہیں گوہر و الماس مگر

وضعداری کی تھی اُمید ہمیں اسفل سے

کاغذی پُھول میں ہوتی نہیں بُو باس مگر


اقبال خلش

No comments:

Post a Comment