دیوار چین کی سیر
بادلوں کے جنگلے سے سہارا لے کر
اسلاف کے نقوشِ پا پر قدم رکھتے ہوئے
آسمانی سیڑھی چڑھ کر
اور
آسمانی پُل عبور کر کے
میں انسانی تہذیب و ثقافت کی چوٹی پر پہنچا
اہلِ فلک کی پُرسکون زندگی میں
خلل اندازی کے ارتکابِ جُرم سے بچنے کے لیے
میں اپنے اسلاف کے ساتھ
زبانِ خاموشی میں گفتگو کرتا رہا
نگاہِ دُوربِین پڑھتی رہی حال کو
اور چشمِ دل پڑھتی رہی ماضی کو
مجھے ہر نیلی خشت
جلی حروف میں لکھا ہوا ایک کیریکٹر
اور ہر مضبوط چوکی
ایک مجسم رزمیہ لگی
انتخاب عالم
چانگ شی شوان
No comments:
Post a Comment