Wednesday, 5 January 2022

جلتی ہوئی رتوں کے خریدار کون ہیں

 جلتی ہوئی رُتوں کے خریدار کون ہیں

اے پیکرِ غزل! تِرے بیمار کون ہیں

خوشبو کی ساعتوں کے طلبگار کون ہیں

اس زلفِ مشکُبو کے گرفتار کون ہیں

کب تک چھپے رہیں گے ازل خامشی کے بھید

شہرِ صدا کے محرمِ اسرار کون ہیں

کرنوں کی رہگزار پہ اڑتی ہے دھول سی

جو اس طرف گئے ہیں وہ جی دار کون ہیں

سینوں میں لے کے ولولۂ زندگی کی آگ

عصر رواں سے بر سرِ پیکار کون ہیں

صدیوں سے منتظر ہیں سلگتی مسافتیں

آسائش جنوں کے طلبگار کون ہیں

سرمست کر گئی جنہیں اپنے لہو کی لے

وہ عرصۂ نبرد کے فنکار کون ہیں

میں تو غریب‌ِ شہر سخن ہوں مگر جلیل

فرماں روائے کشورِ اظہار کون ہیں


حسن اختر جلیل

No comments:

Post a Comment