عشق ہے روح عشق ذات کا دُکھ
عشق ہے پوری کائنات کا دکھ
دل پُجاری ہے ایک پتھر کا
اس کو سہنا ہے سومنات کا دکھ
صبح پھولوں کی ہچکیاں تھیں بندھی
کیسا ظالم تھا ڈھلتی رات کا دکھ
جیت میرا نصیب تھی، لیکن
مجھ کو لے ڈوبا تیری مات کا دکھ
درد دیتی ہے تیری خاموشی
مار دیتا ہے تیری بات کا دکھ
کُو بکُو، در بدر بھٹکتا ہے
عبرت انجام زرد پات کا دکھ
دشمنو! دوستوں سے کہہ دینا
دل پہ کاری تھا ان کی گھات کا دکھ
حجرِ اسود پہ اب بھی لکھتے ہیں
لوگ اندر کے اک منات کا دکھ
ارض بے حال بے ثباتی پر
آسماں نیلگوں ثبات کا دکھ
اس کا دل تھا میری طلب کا قیام
اس کو لاحق تھا شش جہات کا دکھ
کنول حسین
No comments:
Post a Comment