آنکھ میں عکسِ خوش امکان بھی لا سکتی ہوں
میں تِرے عشق پہ ایمان بھی لا سکتی ہوں
پهول اور پیڑ بہت میرا کہا مانتے ہیں
میں بیاباں میں گلستان بھی لا سکتی ہوں
تم عداوت کا بیابان جہاں دیکھتے ہو
میں وہاں پیار کا ارمان بھی لا سکتی ہوں
جس جگہ مسندِ ہر سود پہ تم بیٹهے ہو
میں وہاں کرسی نقصان بھی لا سکتی ہوں
اے خلش مجھ کو تڑپنے کا کوئی شوق نہیں
ورنہ جب چاہوں نمکدان بھی لا سکتی ہوں
اے محبت میں کفایت نہیں کرنے والی
خرچ کرنے کو دل و جان بھی لا سکتی ہوں
سفر دل میں کسی شے کی ضرورت نہیں ہے
خود کو میں بے سر و سامان بھی لا سکتی ہوں
شہلا شہناز
No comments:
Post a Comment