جام ایسا تِری آنکھوں سے عطا ہو جائے
ہوش موجود رہے، اور نشہ ہو جائے
اس طرح میری طرف میرا مسیحا دیکھے
درد دل ہی میں رہے اور دوا ہو جائے
زندگانی کو ملے کوئی ہُنر ایسا بھی
سب میں موجود بھی ہو اور فنا ہو جائے
معجزہ کاش دیکھا دیں یہ نگاہیں میری
لفظ خاموش رہے، بات ادا ہو جائے
اس طرح جرم کے احساس کو بیدار کرو
جسم آزاد رہے، اور سزا ہو جائے
اس کو میں دیکھوں تو اس طرح سے دیکھوں نزہت
شرم آنکھوں میں رہے اور خطا ہو جائے
نزہت انجم
No comments:
Post a Comment