بھنور بنا لیا، ساحل نہیں بنا پایا
تمہاری آنکھ میں کامل نہیں بنا پایا
بنا لیے ہیں کمر کے قریب دو بازو
کمر کے گرد حمائل نہیں بنا پایا
ہمیشہ سادہ ورق بھیجتا رہا اس کو
کسی ورق پہ کبھی دل نہیں بنا پایا
تمام عمر بناتا رہا مسائل میں
تمام عمر وسائل نہیں بنا پایا
بنانا چاہتا تھا سلطنت محبت کی
پہ لڑ پڑے تھے قبائل، نہیں بنا پایا
ہم اس کو راہنما کس طرح کریں تسلیم
ہمیں جو شائقِ منزل نہیں بنا پایا
کبھی وہ زلف پریشاں نہیں ملی مجھ کو
قمر میں شعر کو مشکل نہیں بنا پایا
قمر آسی
No comments:
Post a Comment