Saturday, 17 April 2021

درد ایسا ہے کہ سینے میں سماتا بھی نہیں

 درد ایسا ہے کہ سینے میں سماتا بھی نہیں

ہنسنے دیتا بھی نہیں اور رُلاتا بھی نہیں

پہروں پِھرتا ہوں اندھیروں کے گھنے جنگل میں

کوئی آسیب مجھے آ کے ڈراتا بھی نہیں

ایک تِنکا ہوں، پڑا ہوں لبِ ساحل کب سے

کوئی جھونکا مجھے پانی میں بہاتا بھی نہیں

سادہ سادہ سحر و شام گزر جاتے ہیں

کوئی لڑتا بھی نہیں، کوئی مناتا بھی نہیں

یا وہ موتی تھا کہ بالوں میں گُندھا رہتا تھا

گُم گیا ہوں تو کوئی ڈھونڈنے آتا بھی نہیں

ایک دیوار ادھوری ہی پڑی ہے کب سے

آپ گرتی بھی نہیں، کوئی اٹھاتا بھی نہیں


باقر نقوی​

No comments:

Post a Comment