Saturday, 17 April 2021

کہنے کو کہہ دیا تھا جو قصہ شباب کا

 کہنے کو کہہ دیا تھا جو قصہ شباب کا

کچھ ذکر تو ضرور تھا آنا جناب کا

اب اور کیا کہوں کہ مجھے کیا نہیں ملا

اک درد مل گیا دلِ خانہ خراب کا

سود و زیاں کی فکر مجھے اب نہیں رہی

اب آ چکا ہے وقت بھی سارے حساب کا

رستے میں چند لوگ تھے اب جانے کون تھا

جو پھینک کر نکل گیا پھول اک گلاب کا

اب ساتھ مل سکے جو کسی ماہتاب کا

ہم کو بھی حق ملے گا کسی انتخاب کا ؟

حسن و جمال نور سا چھن چھن نکل پڑا

الٹا اثر ہے رابعہ اس پر نقاب کا


رابعہ ملک

No comments:

Post a Comment