کہنے کو کہہ دیا تھا جو قصہ شباب کا
کچھ ذکر تو ضرور تھا آنا جناب کا
اب اور کیا کہوں کہ مجھے کیا نہیں ملا
اک درد مل گیا دلِ خانہ خراب کا
سود و زیاں کی فکر مجھے اب نہیں رہی
اب آ چکا ہے وقت بھی سارے حساب کا
رستے میں چند لوگ تھے اب جانے کون تھا
جو پھینک کر نکل گیا پھول اک گلاب کا
اب ساتھ مل سکے جو کسی ماہتاب کا
ہم کو بھی حق ملے گا کسی انتخاب کا ؟
حسن و جمال نور سا چھن چھن نکل پڑا
الٹا اثر ہے رابعہ اس پر نقاب کا
رابعہ ملک
No comments:
Post a Comment