Friday, 19 March 2021

کوئی آساں نہیں ہے زندگی بھر دھوپ میں جلنا

 کوئی آساں نہیں ہے زندگی بھر دھوپ میں جلنا

شجر کے کرب کو لیکن کہاں سایہ سمجھتا ہے

ہوا کے ساتھ مِل کر لاکھ یہ آوارہ ہو جائیں

مگر ان خوشبوؤں کو پھُول تو اپنا سمجھتا ہے

تِرے پندار کی ساری حقیقت کھُل چکی، لیکن

تُو اپنے آپ کو اب بھی نہ جانے کیا سمجھتا ہے

یہ تُو نے خود کو کیسی مشکلوں میں ڈال رکھا ہے

وہی تو آئینہ ہے، تُو جسے چہرہ سمجھتا ہے


بھارت بھوشن پنت

No comments:

Post a Comment