کوئی آساں نہیں ہے زندگی بھر دھوپ میں جلنا
شجر کے کرب کو لیکن کہاں سایہ سمجھتا ہے
ہوا کے ساتھ مِل کر لاکھ یہ آوارہ ہو جائیں
مگر ان خوشبوؤں کو پھُول تو اپنا سمجھتا ہے
تِرے پندار کی ساری حقیقت کھُل چکی، لیکن
تُو اپنے آپ کو اب بھی نہ جانے کیا سمجھتا ہے
یہ تُو نے خود کو کیسی مشکلوں میں ڈال رکھا ہے
وہی تو آئینہ ہے، تُو جسے چہرہ سمجھتا ہے
بھارت بھوشن پنت
No comments:
Post a Comment