Sunday, 16 May 2021

رشتوں کے جب تار الجھنے لگتے ہیں

 رشتوں کے جب تار الجھنے لگتے ہیں

آپس میں گھر بار الجھنے لگتے ہیں

ماضی کی آنکھوں میں جھانک کے دیکھوں تو

کچھ چہرے ہر بار الجھنے لگتے ہیں

سال میں اک ایسا موسم بھی آتا ہے

پھولوں سے ہی خار الجھنے لگتے ہیں

گھر کی تنہائی میں اپنے آپ سے ہم

بن کر اک دیوار الجھنے لگتے ہیں

یہ سب تو دنیا میں ہوتا رہتا ہے

ہم خود سے بیکار الجھنے لگتے ہیں

کب تک اپنا حال بتائیں لوگوں کو

تنگ آ کر بیمار الجھنے لگتے ہیں

جب دریا کا کوئی چھور نہیں ملتا

کشتی سے پتوار الجھنے لگتے ہیں

کچھ خبروں سے اتنی وحشت ہوتی ہے

ہاتھوں سے اخبار الجھنے لگتے ہیں

کوئی کہانی جب بوجھل ہو جاتی ہے

ناٹک کے کردار الجھنے لگتے ہیں


بھارت بھوشن پنت

No comments:

Post a Comment