Sunday, 16 May 2021

موسم گل پر خزاں کا زور چل جاتا ہے کیوں

 موسم گل پر خزاں کا زور چل جاتا ہے کیوں

ہر حسیں منظر بہت جلدی بدل جاتا ہے کیوں

یوں اندھیرے میں دکھا کر روشنی کی اک جھلک

میری مُٹھی سے ہر اک جگنو نِکل جاتا ہے کیوں

روشنی کا اک مسافر تھک کے گھر آتا ہے جب

تو اندھیرا میرے سورج کو نِگل جاتا ہے کیوں

تیرے لفظوں کی تپش سے کیوں سُلگ اٹھتی ہے جاں

سرد مہری سے بھی تیری دل یہ جل جاتا ہے کیوں

اب کے جب لوٹے گا وہ تو فاصلہ رکھیں گے ہم

یہ ارادہ اس کے آتے ہی بدل جاتا ہے کیوں

دور ہے سورج علینا پھر بھی اس کی دھوپ سے

برف کی چادر میں لِپٹا تن پگھل جاتا ہے کیوں


علینا عترت

No comments:

Post a Comment