Sunday, 16 May 2021

کہتے ہیں سب لوگ ہوتے ہیں دیواروں کے کان

 کہتے ہیں سب لوگ

ہوتے ہیں

دیواروں کے کان

کمروں کی تنہائی میں

سرگوشی میں کیا کیا باتیں کرتے ہیں

چھپ چھپ کر جب لوگ

دیواریں سب سن لیتی ہیں

سن لیتے ہیں لوگ

دیواروں کی آنکھ بھی ہوتی ہے

کتنا اچھا ہوتا

آنکھ ہے کان سے بہتر شاید

کمرے کا ہو یا پھر چلتی راہگزر کا

نظارہ تو نظارہ ہے

منظر آخر منظر ہے

کیا کیا کرتے لوگ

دیکھا کرتے لوگ

دیواروں کے باہر سے

تاریکی میں دیواروں کی جانب جب بھی قدم اٹھاتے

لمحہ بھر کو ممکن ہے

سوچا کرتے لوگ


بلراج کومل

No comments:

Post a Comment