Sunday, 16 May 2021

منہ اپنی روایات سے پھیرا نہیں کرتے

 منہ اپنی روایات سے پھیرا نہیں کرتے

دشمن کو اچانک کبھی گھیرا نہیں کرتے

دیوار کے پیچھے کوئی رہزن نہ چھپا ہو

اس واسطے ہم گھر میں اندھیرا نہیں کرتے

جس پیڑ کی چھاؤں بھی لگے دھوپ کی صورت

اس پیڑ پہ پنچھی بھی بسیرا نہیں کرتے

آنکھوں سے نہ پڑھ لے کوئی چہرے کی اداسی

اس ڈر سے کبھی ذکر وہ میرا نہیں کرتے

بس یوں ہی ہمیں یاد تو آ جاتا ہے ورنہ

دانستہ کبھی تذکرہ تیرا نہیں کرتے

ہم سینچتے ہیں کشت سحر اپنے لہو سے

مانگے ہوئے سورج سے سویرا نہیں کرتے

لہراتے ہیں شانوں پہ حسن زلف وہ کم کم

سایہ تو وہ کرتے ہیں گھنیرا نہیں کرتے


حسن رضوی

No comments:

Post a Comment