پورے چاند کی رات
چرخہ کاتنے والی بڑھیا
کب سے دھاگا کات رہی ہو
صدیوں کی محنت کا حاصل
یہ دھاگا مضبوط تو ہو گا
تُو نے شاید سارے تارے
چاند کی تنہائی کے ڈر سے
اس ڈوری سے باندھ رکھے ہیں
سب تاروں کی باگیں تُو نے
اپنے ہاتھ میں تھام رکھی ہیں
چرخہ کاتنے والی بڑھیا
مجھ کو اپنے چاند کی کرنوں کے سنگ تھوڑی ڈور تو بھیجو
میں بھی ایک ستارا باندھوں
اک آنچل کا کنارا باندھوں
مجھ کو تھوڑی ڈور تو بھیجو
منصور راٹھور
No comments:
Post a Comment