Sunday, 16 May 2021

پورے چاند کی رات چرخہ کاتنے والی بڑھیا

 پورے چاند کی رات


چرخہ کاتنے والی بڑھیا

کب سے دھاگا کات رہی ہو

صدیوں کی محنت کا حاصل

یہ دھاگا مضبوط تو ہو گا

تُو نے شاید سارے تارے

چاند کی تنہائی کے ڈر سے

اس ڈوری سے باندھ رکھے ہیں

سب تاروں کی باگیں تُو نے 

اپنے ہاتھ میں تھام رکھی ہیں

چرخہ کاتنے والی بڑھیا

مجھ کو اپنے چاند کی کرنوں کے سنگ تھوڑی ڈور تو بھیجو

میں بھی ایک ستارا باندھوں

اک آنچل کا کنارا باندھوں

مجھ کو تھوڑی ڈور تو بھیجو


منصور راٹھور

No comments:

Post a Comment