Sunday, 16 May 2021

ہم ہتھیلی پہ جان رکھتے ہیں

 ہم ہتھیلی پہ جان رکھتے ہیں

اور تیری امان رکھتے ہیں

چند اشکوں کے واسطے صاحب

تیری باتوں کا مان رکھتے ہیں

تم گزرتے ہو اجنبی بن کر

ہم تو دل پر چٹان رکھتے ہیں

جو بھی ہیں ہم بس اک ہمیں ہیں ہم

دوست کیا کیا گمان رکھتے ہیں

میٹھی باتوں سے کیا انہیں مطلب

ہر گھڑی سینہ تان رکھتے ہیں

کتنے شاطر ہیں وہ مِرے ہمدم

دل میں تیر و کمان رکھتے ہیں

خامشی مصلحت رہی مہتاب

ورنہ ہم بھی زبان رکھتے ہیں


بشیر مہتاب

No comments:

Post a Comment