ہم ہتھیلی پہ جان رکھتے ہیں
اور تیری امان رکھتے ہیں
چند اشکوں کے واسطے صاحب
تیری باتوں کا مان رکھتے ہیں
تم گزرتے ہو اجنبی بن کر
ہم تو دل پر چٹان رکھتے ہیں
جو بھی ہیں ہم بس اک ہمیں ہیں ہم
دوست کیا کیا گمان رکھتے ہیں
میٹھی باتوں سے کیا انہیں مطلب
ہر گھڑی سینہ تان رکھتے ہیں
کتنے شاطر ہیں وہ مِرے ہمدم
دل میں تیر و کمان رکھتے ہیں
خامشی مصلحت رہی مہتاب
ورنہ ہم بھی زبان رکھتے ہیں
بشیر مہتاب
No comments:
Post a Comment