کوئی یہ بوجھ اٹھانے کو تیار بھی تو ہو
دستار کس کو دیجئے، حقدار بھی تو ہو
مشکل نہیں ہے مجھ کو ڈرانا میرے حریف
لیکن تِری نیام میں تلوار🗡 بھی تو ہو
یہ جانتا ہوں نرغۂ دشمن میں ہوں مگر
مجھ پر کسی طرف سے کوئی وار بھی تو ہو
ہم کافروں نے شوق میں روزہ تو رکھ لیا
اب حوصلہ بڑھانے کو افطار بھی تو ہو
کہنے کو چند شعر تو ہم نے بھی کہہ لیے
لیکن سخن سرائی کا معیار بھی تو ہو
بھارت بھوشن پنت
No comments:
Post a Comment