رسوم عشق ہیں، کچھ دن تو انتظار کرو
بچھڑ گیا ہے تو دامن نہ تار تار کرو
فریب رہتا ہے ہر آدمی کی فطرت میں
کسی پہ اتنا بھی کھل کر نہ اعتبار کرو
سیاسی لوگوں نے دنگائیوں کو لکھا ہے
جہاں ہو امن کی بستی وہیں پہ مار کرو
مِرے لبوں پہ دعا کے سوا کچھ اور نہیں
میاں فقیر کی صف میں مجھے شمار کرو
سبب تلاش کرو اس سے دور ہونے کا
کسی کے ہجر میں اتنا نا اشکبار کرو
بصیرتوں کو چبھن ہو سماعتوں کو گھٹن
غزل میں ایسا بھی لہجہ نہ اختیار کرو
ہزاروں بار محبت کرو سمجھ کے ثواب
یہ کس نے تم سے کہا ہے کہ ایک بار کرو
تمہارے داغ دکھائیں گے منتشر ہو کر
تم آئینوں پہ میرے پتھروں سے وار کرو
دل و دماغ کی بستی کے تم ہی حاکم ہو
مِری حیات کے لمحوں کو خوشگوار کرو
کوئی ولی نہیں لیکن میں ایک ناصح ہوں
کوئی چراغ میرے بھی سرِ مزار کرو
لہو سے دھو کے سنوارا ہے ہم نے چہرے کو
وطن کا چہرۂ روشن نہ داغ دار کرو
دراڑ عشق کے رشتوں میں ڈال دیتا ہے
دلوں کے سودے میں ہرگز نہ تم اُدھار کرو
ملی ہے یار کے تلووں کی خاک تجھ کو دل
زمیں پہ رہ کے ستاروں کا کاروبار کرو
دل سکندر پوری
No comments:
Post a Comment