Monday, 4 April 2022

یہ کس نے بھرم اپنی زمیں کا نہیں رکھا

 یہ کس نے بھرم اپنی زمیں کا نہیں رکھا

ہم جس کے رہے اس نے کہیں کا نہیں رکھا

دیکھا کہ ابھی روح میں فریاد کناں ہے

سجدہ جسے پابند جبیں کا نہیں رکھا

افسوس کہ انکار کی منزل نہیں آئی

ہر چند کہ در بند نہیں کا نہیں رکھا

اور اپنی طرح کے یہاں سالک ہیں کئی اور

ہر شخص پر الزام یقیں کا نہیں رکھا

گلزار کھلائے جہاں بازار لگائے

ہم خاک نشینوں کو وہیں کا نہیں رکھا

ایک ایسی قناعت ہے طبیعت میں کہ جس نے

محتاج ہمیں نان جویں کا نہیں رکھا

اس گھر کے مقدر میں تباہی نہ لکھی ہو

وہ جس نے خیال اپنے مکیں کا نہیں رکھا


ساقی فاروقی

No comments:

Post a Comment