خود سے ہوا جدا تو ملا مرتبہ مجھے
آزاد ہو کے مجھ سے مگر کیا ملا تجھے
اک لحظہ اپنی آنکھ میں تو جھانک لے اگر
آؤں نظر میں بکھرا ہوا جا بجا تجھے
تھا مجھ کو تیرا پھینکا ہوا پھول ہی بہت
یہ اور بات، میں نے صدائیں ہزار دیں
آئ نہ دشت ہول سے اک بھی صدا تجھے
تُو نے بھی خود کو مرکزِ عالم سمجھ لیا
لگ ہی گئی زمانے کی آخر ہوا تجھے
کیا قہر ہے کہ رنگوں کے اس اژدہام میں
جز رنگِ زرد اور نہ کچھ بھی ملا تجھے
نظروں نے تار تار کِیا آسماں تمام
آئ نہ راس تاروں بھری یہ رِدا تجھے
دائم رہے سفر میں ترا ناقۂ خیال
دیتا رہوں میں روز یہی بد دعا تجھے
کہنے کو چند گام تھا یہ عرصۂ حیات
لیکن تمام عمر ہی چلنا پڑا تجھے
وزیر آغا
No comments:
Post a Comment