Monday, 5 December 2016

خود سے ہوا جدا تو ملا مرتبہ مجھے

خود سے ہوا جدا تو ملا مرتبہ مجھے
آزاد ہو کے مجھ سے مگر کیا ملا تجھے
اک لحظہ اپنی آنکھ میں تو جھانک لے اگر
آؤں نظر میں بکھرا ہوا جا بجا تجھے
تھا مجھ کو تیرا پھینکا ہوا پھول ہی بہت
لفظوں کا اہتمام بھی کرنا پڑا تجھے
یہ اور بات، میں نے صدائیں ہزار دیں
آئ نہ دشت ہول سے اک بھی صدا تجھے
تُو نے بھی خود کو مرکزِ عالم سمجھ لیا
لگ ہی گئی زمانے کی آخر ہوا تجھے
کیا قہر ہے کہ رنگوں کے اس اژدہام میں
جز رنگِ زرد اور نہ کچھ بھی ملا تجھے
نظروں نے تار تار کِیا آسماں تمام
آئ نہ راس تاروں بھری یہ رِدا تجھے
دائم رہے سفر میں ترا ناقۂ خیال
دیتا رہوں میں روز یہی بد دعا تجھے
کہنے کو چند گام تھا یہ عرصۂ حیات
لیکن تمام عمر ہی چلنا پڑا تجھے

وزیر آغا

No comments:

Post a Comment