Monday, 5 December 2016

چلے چلو جہاں لے جائے ولولہ دل کا

چلے چلو جہاں لے جائے ولولہ دل کا
دلیلِ راہِ محبت ہے،۔ فیصلہ دل کا
خدا بچاۓ کہ نازک ہے ان میں ایک سے ایک
تنک مزاجوں سے ٹھہرا معاملہ دل کا
دکھا رہا ہے یہ دونوں جہاں کی کیفیت
کرے گا ساغرِ جم کیا مقابلہ دل کا
ہوا سے وادئ وحشت میں باتیں کرتے ہو
بھلا یہاں کوئی سنتا بھی ہے گِلہ دل کا
کسی کے ہو رہو، اچھی نہیں یہ آزادی
کسی کی زلف سے لازم ہے سلسلہ دل کا
پیالہ خالی اٹھا کر لگا لیا منہ سے
کہ یاسؔ کچھ تو نکل جائے حوصلہ دل کا

یاس یگانہ

No comments:

Post a Comment