چلے چلو جہاں لے جائے ولولہ دل کا
دلیلِ راہِ محبت ہے،۔ فیصلہ دل کا
خدا بچاۓ کہ نازک ہے ان میں ایک سے ایک
تنک مزاجوں سے ٹھہرا معاملہ دل کا
دکھا رہا ہے یہ دونوں جہاں کی کیفیت
ہوا سے وادئ وحشت میں باتیں کرتے ہو
بھلا یہاں کوئی سنتا بھی ہے گِلہ دل کا
کسی کے ہو رہو، اچھی نہیں یہ آزادی
کسی کی زلف سے لازم ہے سلسلہ دل کا
پیالہ خالی اٹھا کر لگا لیا منہ سے
کہ یاسؔ کچھ تو نکل جائے حوصلہ دل کا
یاس یگانہ
No comments:
Post a Comment