Monday, 5 December 2016

خداؤں کی خدائی ہو چکی بس

خداؤں کی خدائی ہو چکی بس
خدارا! بس، دہائی ہو چکی بس
ہوا میں اڑ گیا ایک ایک پتا
گلوں کی جگ ہنسائی ہو چکی بس
بھلا اب کیا جچوں اپنی نظر میں
نظر اپنی پرائی ہو چکی بس
نگاہیں ملتے ہی دونوں تھے ٹھنڈے
ارے یہ کیا، لڑائی ہو چکی بس
رہا کیا جب دلوں میں فرق آیا
اسی دن سے جدائی ہو چکی بس
پڑے ہو کون سے گوشے میں تنہا
یگانہؔ کیوں، خدائی ہو چکی بس

یاس یگانہ

No comments:

Post a Comment