سوکھے پیڑ سے ٹیک لگائے پہروں بیٹھا رہتا ہوں
بانہوں میں چہرے کو چھپائے پہروں بیٹھا رہتا ہوں
جانے کب وہ آ جائے اس آس پہ اکثر راتوں کو
آنکھیں دروازے پہ جمائے پہروں بیٹھا رہتا ہوں
کاش وہی کچھ دکھ سکھ بانٹے بس اِس آس میں اکثر میں
ماہِ نومبر میں تنہا میں اس کی سالگرہ کی شب
ویرانے میں دیپ جلائے پہروں بیٹھا رہتا ہوں
اس کی تحریروں کے روشن لفظوں کی تاثیر ہے یہ
دنیا کے سب درد بھلائے پہروں بیٹھا رہتا ہوں
جسم و جاں میں پچھلی رُت جب محشر برپا کرتی ہے
دل کو یادوں میں سلگائے پہروں بیٹھا رہتا ہوں
یہ تو طے ہے جانے والے کم ہی لوٹ کے آتے ہیں
پھر بھی میں اِک آس لگائے پہروں بیٹھا رہتا ہوں
آج صفؔی ہمدرد نہ کوئی درد کی ایسی شدت میں
آج اُسے پھر دل میں بسائے پہروں بیٹھا رہتا ہوں
عتیق الرحمٰن صفی
No comments:
Post a Comment