نام اور روپ سے جو بالا ہے
کس قیامت کے نقش والا ہے
چاندنی اس کے تن کی اترن ہے
سبز شبنم، گلے کی مالا ہے
چاپ ابھری ہے دل کے اندر سے
تول سکتا ہے کون خوشبو کو
پھر بھی ہم نے یہ روگ پالا ہے
دیکھ اس تیری چاندنی شب نے
کتنے تاروں کو روند ڈالا ہے
کپکپانے لگے ہیں لب اس کے
جانے کیا بات کرنے والا ہے
وزیر آغا
No comments:
Post a Comment