Monday, 5 December 2016

سہے غم پئے رفتگاں کیسے کیسے

سہے غم پئے رفتگاں کیسے کیسے
مرے کھو گئے کارواں کیسے کیسے
وہ چتون، وہ ابرو، وہ قد یاد سب ہے
سناؤں میں گزرے بیاں کیسے کیسے
رہا عشق سے نام مجنوں کا، ورنہ
تہِ خاک ہیں بے نشاں کیسے کیسے
شبِ وصل مہ کو عریاں کریں گے
عیاں ہوں گے رازِ نہاں کیسے کیسے
کمر یار کی ناتوانی میں ڈھونڈی
توہم ہوۓ درمیاں کیسے کیسے
کلیجے میں اخترؔ پھپھولے پڑے ہیں
مرے اٹھ گئے قدر داں کیسے کیسے

واجد علی شاہ اختر

No comments:

Post a Comment