سہے غم پئے رفتگاں کیسے کیسے
مرے کھو گئے کارواں کیسے کیسے
وہ چتون، وہ ابرو، وہ قد یاد سب ہے
سناؤں میں گزرے بیاں کیسے کیسے
رہا عشق سے نام مجنوں کا، ورنہ
شبِ وصل مہ کو عریاں کریں گے
عیاں ہوں گے رازِ نہاں کیسے کیسے
کمر یار کی ناتوانی میں ڈھونڈی
توہم ہوۓ درمیاں کیسے کیسے
کلیجے میں اخترؔ پھپھولے پڑے ہیں
مرے اٹھ گئے قدر داں کیسے کیسے
واجد علی شاہ اختر
No comments:
Post a Comment