Sunday, 4 October 2020

چھپ چھپ کے محبت کو نہ بدنام کیا جائے

 چھپ چھپ کے محبت کو نہ بدنام کیا جائے

جو کام کیا جائے، سرِ عام کیا جائے

یہ دل کہ تِرے بعد بہلتا ہی نہیں ہے

اب تُو ہی بتا کیسے اسے رام کیا جائے

یہ تو مِرے حرفوں کا تقاضا ہے میری جان

جو شعر لکھا جائے، تِرے نام کیا جائے

تھک ہار کے کل شام کہا تھا یہ ہوا نے

آوارہ پرندوں کو تہِ دام کیا جائے

کیا فائدہ پھر ایسی جوانی کا کہ جس میں

جب سوچ سمجھ کر ہی ہر اک کام کیا جائے

شاید وہ پلٹ آئے کبھی شب کا مسافر

روشن ہی چراغوں کو سرِ شام کیا جائے

کل شام یہ گھر چھوڑ تو دینا ہے ہمیں بھی

بہتر ہے کہ کچھ وقف در و بام کیا جائے

فیضان یہ دنیا تو ہے اک بازار کی صورت

ہے کس کو خبر کل کسے نیلام کیا جائے


فیضان عارف

No comments:

Post a Comment