Sunday, 4 October 2020

خبر سمجھ کے سراب خبر میں کھویا ہوا

 خبر سمجھ کے سرابِ خبر میں کھویا ہوا

عجیب شہر ہے یہ جاگتے میں سویا ہوا

جو آج منزلِ مژگاں پہ آ کے ٹھہرا ہے

یہ اشک پہلے کسی وقت کا ہے رویا ہوا

وہ دیکھنا ہے جو اپنی نظر کا قرض نہیں

وہ کاٹنا ہے جو اپنا نہیں ہے بویا ہوا

کہاں سے پھر مِری وحشت تلاش کر لائی

وہ دور گردِ زمان و مکاں میں کھویا ہوا

غلافِ چشم میں لپٹے ہوئے ارادے تھے

پیام تارِ تبسم میں تھا پرویا ہوا

ہزار دستکِ گریہ، ہزار شورِ فغاں

کب ایسے جاگنے والا ہے، بخت سویا ہوا


عابد سیال

No comments:

Post a Comment