Saturday, 5 September 2020

موجہ خون پریشان کہاں جاتا ہے

 موجۂ خون پریشان کہاں جاتا ہے 

مجھ سے آگے مرا طوفان کہاں جاتا ہے 

میں تو جاتا ہوں بیابان نظر کے اس پار 

میرے ہمراہ بیابان کہاں جاتا ہے 

اب تو دریا میں بندھے بیٹھے ہیں دریا کی طرح 

اب کناروں کی طرف دھیان کہاں جاتا ہے 

چائے کی پیالی میں تصویر وہی ہے کہ جو تھی 

یوں چلے جانے سے مہمان کہاں جاتا ہے 

داستاں گو کی نشانی کوئی رکھی ہے کہ وہ 

داستاں گوئی کے دوران کہاں جاتا ہے 

بات یوں ہی تو نہیں کرتا ہوں میں رک رک کر 

کیا بتاؤں کہ مرا دھیان کہاں جاتا ہے 

گھر بدلنا تو بہانہ ہے بہانہ کر کے 

اندر اندر ہی سے انسان کہاں جاتا ہے


شاہین عباس

No comments:

Post a Comment