لوگ ہم جیسے بھی کچھ دیر گوارا کیے جائیں
ایک نام، ایک ندا پر جو گزارا کیے جائیں
اب ضروری نہیں، ہاتھوں سے جلائیں یہ چراغ
یہ بھی کافی ہے کہ آنکھوں سے اشارا کیے جائیں
اس سے آگے نہ زمیں ہے نہ زمانہ کوئی اور
ایک وقت ایسا بھی ہو وقت ملانے والے
خواب سب تیرے ہوں اور کام ہمارا کیے جائیں
یہاں آتے ہوئے جس شام کو رخصت کیا تھا
کیا خبر جائیں تو وہ شام دوبارا کیے جائیں
سرسری گزرے تھے جو ہجر کی وحشت سے وہ لوگ
حاضر اس باب میں ممکن ہے دوبارا کیے جائیں
آخری عشق کی حالت ہو تو یہ ہوتا ہے
کوئی منظر بھی نہ ہو اور نظارا کیے جائیں
شاہین عباس
No comments:
Post a Comment