دل کے کرب کو
اپنی خموشی میں چھپا کر
پلکوں پر سمیٹے
ادھورے خوابوں کی کرچیاں
ہاتھ میں چائے کا کپ تھامے
میں تنہا کمرے میں سوچ رہی ہوں
بارشوں کا برسنا تو معمول ہے
بارشیں تو ہوتی رہتی ہیں
پھر آنکھیں کیوں برس رہی ہیں
ہاں شاید
ان آنکھوں کا برسنا بھی
معمول ہے
راحیلہ منظر
No comments:
Post a Comment