Thursday, 17 February 2022

دل کے کرب کو اپنی خموشی میں چھپا کر

 دل کے کرب کو

اپنی خموشی میں چھپا کر

پلکوں پر سمیٹے

ادھورے خوابوں کی کرچیاں

ہاتھ میں چائے کا کپ تھامے

میں تنہا کمرے میں سوچ رہی ہوں

بارشوں کا برسنا تو معمول ہے

بارشیں تو ہوتی رہتی ہیں

پھر آنکھیں کیوں برس رہی ہیں

ہاں شاید

ان آنکھوں کا برسنا بھی

معمول ہے


راحیلہ منظر

No comments:

Post a Comment