نئی شہرت ہے اک عرصہ یوں ہی بیزار ہو گا
یہ سستا شوق اترے گا تو پھر دیدار ہو گا
تُو پیسے بے دلی سے خرچ ایسے کر رہا ہے
وراثت میں تِرے حصے کہیں دربار ہو گا
اگر شاعر سے الجھا ہے، انا مضبوط کر لے
تُو سر پاؤں میں دھر پھر بھی یہاں انکار ہو گا
حسیں کو دیکھ کر تعریف بھی نہ کر سکے جو
وہ تارے چاند تتلی کا بھی کیا حُبدار ہو گا
اچانک سے بچھڑنے پر جو رونے لگ گیا تھا
مِرے اندر کا بچہ تھا، وہی بیدار ہو گا
وہ پہلا عشق جو استاد تھا اب مر گیا ہے
محبت پھر نئی ہو گی، نیا اظہار ہو گا
جو ہر اک عیب کی تشہیر کرتا پھر رہا ہے
منافق شخص آکف کا پرانا یار ہو گا
آکف صدیقی
No comments:
Post a Comment