محبت ثانوی دکھ ہے
مِری جاں! فیض لکھتا ہے
محبت ثانوی دکھ ہے
بھلا اب ثانوی دکھ پر
مسلسل سوگ کیوں کرنا
اگر سمجھو تو دنیا میں
قیامت خیز دکھڑے ہیں
وڈیروں کے محلوں میں
کسی مفلس کی بیٹی جب
ہوس کی بھینٹ چڑھتی ہے
فرشتے سوگ کرتے ہیں
زمیں بستی خدا کی ہے
خدا کی پاک بستی میں
وبا سے لوگ مرتے ہیں
فرشتے سوگ کرتے ہیں
بزرگوں نے بتایا تھا
سبھی معصوم سے بچے
خدا کا روپ ہوتے ہیں
یہ بچے پھول ہوتے ہیں
خدا کی پاک بستی میں
یہ بچے بھی اجڑتے ہیں
ہوس کی بھینٹ چڑھتے ہیں
یہ بچے بھی تو مرتے ہیں
مری جاں فیض سچا تھا
محبت ثانوی دکھ ہے
محبت مفلسی کے بعد آتی ہے
خدا کی پاک بستی کا
بڑا دکھ تو غریبی ہے
غریبی فاحشہ ہے جو
فقط روٹی کی خاطر ہی
دھرم کو بیچ دیتی ہیں
ہمارا دکھ محبت ہے
محبت ثانوی دکھ ہے
بھلا اب ثانوی دکھ پر
مسلسل سوگ کیوں کرنا
محمد علی بخاری
No comments:
Post a Comment