کبھی سُوئے منزل جو ہم دیکھتے ہیں
تمہارے ہی نقش قدم دیکھتے ہیں
تِری آنکھ میں اپنا غم دیکھتے ہیں
زمانے میں ایسا تو کم دیکھتے ہیں
بھری بزم میں آج اک دوسرے کو
نہ تم دیکھتے ہو نہ ہم دیکھتے ہیں
بڑے لوگ کرتے ہیں جو کارنامے
انہیں پتھروں کے صنم دیکھتے ہیں
جواں عزم رکھتے ہیں راہ وفا میں
کہاں ہم یہ تھکتے قدم دیکھتے ہیں
جو الجھے ہوئے ہیں غم زندگی میں
تِری زلفِ برہم کے خم دیکھتے ہیں
طبیعت میں جن کی کوئی مصلحت ہو
وہ چلنے سے پہلے قدم دیکھتے ہیں
💗محبت ہے انوار تعمیر عالم💗
محبت سے ہر شے کو ہم دیکھتے ہیں
انوار انصاری
No comments:
Post a Comment