دستِ ہوس میں تیغِ جفا ہے، تم بھی چُپ ہو ہم بھی چُپ
کیسی عبرت ناک سزا ہے، تم بھی چپ ہو ہم بھی چپ
شہرِ تمنا سہما سہما،۔ لرزاں لرزاں بزمِ خیال
سارا عالم خوف زدہ ہے، تم بھی چپ ہو ہم بھی چپ
صَوت و صدا کے ایوانوں سے لوح و قلم کی محفل تک
سناٹا ہی سناٹا ہے،۔ تم بھی چپ ہو ہم بھی چپ
اس پر بھی تو سوچو یارو، اس پر بھی تو غور کرو
آج زمانہ کیوں ایسا ہے، تم بھی چپ ہو ہم بھی چپ
گُھٹ گُھٹ کر مر جانا بھی تو دل والوں کی رسم نہیں
یہ جینا بھی کیا جینا ہے، تم بھی چپ ہو ہم بھی چپ
کچھ تو بولو درد کے مارو،۔ کچھ تو جی ہلکا کر لو
ہائے یہ کیسی شرطِ وفا ہے، تم بھی چپ ہو ہم بھی چپ
گویائی بھی قہرِ سراپا،۔ خاموشی بھی جرم عزیز
جینا جیسے کوئی سزا ہے، تم بھی چپ ہو ہم بھی چپ
عزیز احمد بگھروی
No comments:
Post a Comment