عجب گُھٹن تھی وہاں پر لہٰذا نکلے اور
تمام رات تلاشے پھر اپنے جیسے اور
تمہارے دل کی طرف اور رستے جاتے تھے
کسی نے ہم کو مہیا کیے تھے نقشے اور
پرائے دیس میں اے دل کہاں سے لاؤں وہ ماں
جو ماتھا چُوم کے کہتی ہے؛ اور کھا لے اور
ہم ایسے تنگ مکانوں میں رہ نہیں سکتے
جسے تمنّا ہے وہ دل کا صحن کھولے اور
اسے کہو کہ خبر کیا یہ رات آخری ہو
اسے کہو کہ گھڑی بھر تو ساتھ بیٹھے اور
ہمارے خواب مقدس ہیں ان کو بہرِ خُدا
تمہاری آنکھ سوا کوئی بھی نہ دیکھے اور
وہ بات یہ ہے کہ اس دل کو کون سمجھائے
وگرنہ لوگ تو ملتے ہیں تجھ سے اچھے اور
نعمان شفیق
No comments:
Post a Comment