Tuesday, 19 April 2022

ندائے کشمیر بہت مبارک میرے عزیزو

ندائے کشمیر


بہت مبارک

میرے عزیزو

تمہارے نعروں کی گونج سے دشمنوں کا دل 

بھی لرز گیا ہے

تمہارے پُر جوش بھاشنوں سے کسی کا جیون

سنور گیا ہے

میری رگوں سے جو پُھوٹتا ہے لہو کا دریا 

اُتر گیا ہے

جو چارہ گر مانتا تھا خود کو 

وہ عہد پورے بھی کر گیا ہے

یہ سب ہوا ہے تو پھر مبارک

تمہیں یہ فتح بہت مبارک

تو اب میرے ہاں جوان لاشے نہیں اٹھیں گے

سہاگ لٹتے تھے کل تلک جو، نہیں لٹیں گے

کہ میری بِٹیا کے سر کا آنچل نہیں چھنے گا

کوئی بدن اب ہوس کا ساماں نہیں بنے گا

نہ کھیلی جائے گی میرے سینے پہ خوں کی ہولی

نہیں لگے گی نا اب یہاں عصمتوں کی بولی

یہی ہوا ہے؟ بہت مبارک

نہیں ہوا کیا؟ 

سو سچ یہی ہے کہ ڈھونگ ہے جو رچا رہے ہو

مجھے یوں پاگل بنا رہے ہو

میرے حق میں کیا خوب نغمے بجا رہے ہو

تماش بیں ہو، تبھی تو تم کو یہ غم نہیں ہے

وجود تھا یہ جو ایک پنجر میں ڈھل گیا ہے

ادھورا پنجر

وہ ایک پنجر کہ جس کو گِدھ نوچ کھا رہے ہیں

اور نوچ کھا کر 

اسے وہ اپنے بدن کا حصہ بتا رہے ہیں

سو جب مقدر کی یہ سیاہی نہیں چھٹی ہے

میری دنیا ابھی بھی ٹکڑوں میں ہی بٹی ہے

تو نعرے بازی، فضول بهاشن

اور لغو ناٹک ہی چھوڑ دو نا

کہ جو دکھاوے کا مجھ سے بندھن 

بنا رکھا ہے وہ توڑ دو نا


ثمن ابرار

No comments:

Post a Comment