زندگی کیا مانگتی ہے کچھ سمجھ آتا نہیں
جس طرف بھی دیکھیے اب دل کو کچھ بھاتا نہیں
دوستی بھی دیکھ لی اور دشمنی بھی دیکھ لی
دونوں رشتوں سے ہی انساں کچھ کبھی پاتا نہیں
کس لیے انساں کے دل نے پائی دولت کی ہوس
اس جہاں سے ساتھ اپنے کچھ وہ لے جاتا نہیں
وہ جو اپنے تھے سبھی بس مسکرا کر رہ گئے
کام اپنے وہ ہی آیا جس سے کچھ ناتا نہیں
اب تو انور! زہر بھی تاثیر اپنی کھو چکا
کوئی مرنے کے لیے بھی اب زہر کھاتا نہیں
سید انور سعید
No comments:
Post a Comment