Saturday, 26 September 2026

زندگی کیا مانگتی ہے کچھ سمجھ آتا نہیں

 زندگی کیا مانگتی ہے کچھ سمجھ آتا نہیں

جس طرف بھی دیکھیے اب دل کو کچھ بھاتا نہیں

دوستی بھی دیکھ لی اور دشمنی بھی دیکھ لی

دونوں رشتوں سے ہی انساں کچھ کبھی پاتا نہیں

کس لیے انساں کے دل نے پائی دولت کی ہوس

اس جہاں سے ساتھ اپنے کچھ وہ لے جاتا نہیں

وہ جو اپنے تھے سبھی بس مسکرا کر رہ گئے

کام اپنے وہ ہی آیا جس سے کچھ ناتا نہیں

اب تو انور! زہر بھی تاثیر اپنی کھو چکا

کوئی مرنے کے لیے بھی اب زہر کھاتا نہیں


سید انور سعید

No comments:

Post a Comment