ہر بات پہ انکار کرے ہے بُتِ کافر
تُو شخص تو اچھا ہے مگر تیرے عناصر
اے شہر تمنا میں سکونت کے بِھکاری
اس شہر میں آباد نہیں کوئی مہاجر
خوش رہنے کی تاکید نہ کر وقت ہے اب بھی
گر مان لیا میں نے کہیں تیرا کہا پِھر
کوئی بھی مِرے دُکھ میں دُکھی ہوتا نہیں ہے
ڈھارس ہی بندھا جائے گلے مِل کے بظاہر
جب سے مِری محفل سے وہ اک شخص اُٹھا ہے
میں لاکھ رہوں دل نہیں رہتا کبھی حاضر
اس شوخ طبیعت سے تجھے عار ہے لیکن
شاداب اگر نام کا شاداب ہُوا پِھر
شاداب جاوید
No comments:
Post a Comment