Tuesday, 29 September 2026

ہر بات پہ انکار کرے ہے بت کافر

 ہر بات پہ انکار کرے ہے بُتِ کافر

تُو شخص تو اچھا ہے مگر تیرے عناصر

اے شہر تمنا میں سکونت کے بِھکاری

اس شہر میں آباد نہیں کوئی مہاجر

خوش رہنے کی تاکید نہ کر وقت ہے اب بھی

گر مان لیا میں نے کہیں تیرا کہا پِھر

کوئی بھی مِرے دُکھ میں دُکھی ہوتا نہیں ہے

ڈھارس ہی بندھا جائے گلے مِل کے بظاہر

جب سے مِری محفل سے وہ اک شخص اُٹھا ہے

میں لاکھ رہوں دل نہیں رہتا کبھی حاضر

اس شوخ طبیعت سے تجھے عار ہے لیکن

شاداب اگر نام کا شاداب ہُوا پِھر


شاداب جاوید

No comments:

Post a Comment