Monday, 28 September 2026

قرآن معجزہ ہے بشارت حدیث ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


قرآن مُعجزہ ہے، بشارت حدیث ہے

خالق کو خلق سے ہے محبت، حدیث ہے

ہمسائے کے حقوق ادا ہونے چاہئیں

دُکھ سُکھ میں ہونی چاہیے شرکت، حدیث ہے

گندم کی بالیوں میں بشارت ہے اجر کی

تقسیم ہونی چاہیے دولت، حدیث ہے

پودا جو ہاتھ میں ہو لگا دینا چاہیے

ہر چند ہو سامنے قیامت، حدیث ہے

تیرے خلاف دے گا گواہی تِرا بدن 

اعضاء کریں گے تجھ سے بغاوت، حدیث ہے 

بچوں کو چھوڑ جائیں گی مائیں بھی خوف سے

یہ داستان ہے نہ حکایت، حدیث ہے

جانا کہاں ہے مجھ کو، روانہ ہوں کس طرف

میں بے خبر ہوں، میری ضرورت حدیث ہے

توبہ کا در کُھلا ہے گُنہگار کے لیے

لگتا ہے یہ تو میری ہی بابت حدیث ہے


فیصل عجمی

No comments:

Post a Comment