Saturday, 26 September 2026

دانا جو کہہ رہے ہیں منافق کو عقل مند

 دانا جو کہہ رہے ہیں مُنافق کو عقل مند

سو ہو گیا ہوں میں بھی تھوڑا مصلحت پسند

خُوئے غُلامی راس جِسے آ گئی یہاں

کیسے بھلا وہ ہو گا کبھی پھر خطر پسند

کج فَہمی کھا گئی ہے مِری نسل کا شعور

ہر شخص مِرے شہر کا اک خول میں ہے بند

موسم فَسُردہ شہر میں اُترا ہے اس قدر

ذی نفس کوئی دِکھتا نہیں مجھ کو خورسند

آخر وہ نکلی زہرِ ہلاہل جنابِ شیخ

تقلید جس کو آپ بھی کہتے رہے ہیں قند

جی بھر کے رو اے دھرتی ماں اپنے نصیب کو

تجھ کو بھی بیچ کھا گئے فرزندِ ارجُمَند

عاجز! چلو تلاشتے ہیں خضر راہ پھر

ہو سکتا ہے کہ ہم کو بھی مل جائے ہوشمند


الیاس عاجز

No comments:

Post a Comment