لذتِ دردِ جگر دوست بڑھا دیتا ہے
زخم رِستا ہے تو کچھ اور مزا دیتا ہے
میرے زخموں پہ نمک روز چھِڑک دیتا ہے
جانے کس جرم کی وہ مجھ کو سزا دیتا ہے
تلخ باتوں سے مِرے دل کو دکھاتا ہے روز
میرا ہو کے مِرے زخموں کو ہوا دیتا ہے
رنگ بیٹا بھی بدل لیتا ہے گِرگٹ کی طرح
وقت پڑنے پہ ہمیشہ وہ دغا دیتا ہے
جب بھی بے پردہ تصور میں چلا آتا ہے
میری نظروں میں کوئی خواب سجا دیتا ہے
آگ سینے میں محبت کی سُلگ جاتی ہے
وہ نگاہوں سے مجھے جب بھی پلا دیتا ہے
ڈُوب جاتا ہے سرِ شام وہ سُورج تو مگر
خواہشیں رات کے سینے میں دبا دیتا ہے
تیرے آنے کی تمنا میں ہی رہتا ہے مکیش
تیری راہوں میں یہ پلکوں کو بِچھا دیتا ہے
مکیش اندوری
No comments:
Post a Comment