میری خبر ہے دل کو نہ دل کی خبر مجھے
دیوانہ کر گئی ہے کس کی نظر مجھے
کیسے قرار آئے مرے دل کو ہم نشیں
پھرتی ہے تیری یاد لیے در بدر مجھے
منزل کے پاس آ کے ہوئے دونوں دو طرف
میں ہمسفر کو بھول گیا ہمسفر مجھے
بیتے دنوں کے زخموں کا کرتا میں احتساب
مہلت جو دیتی گردش شام و سحر مجھے
ہوتی ہے ایک رات چراغوں کی زندگی
یہ درس دے رہا ہے چراغِ سحر مجھے
چاہے کوئی تو پیار سے کر لے مجھے اسیر
نفرت سے زیر کر نہ سکے گا مگر مجھے
معصوم میرے حق میں وہ انمول ہیں رتن
قدرت نے جو عطا کیے لعل و گہر مجھے
معصوم شرقی
No comments:
Post a Comment