Sunday, 27 September 2026

میری خبر ہے دل کو نہ دل کی خبر مجھے

 میری خبر ہے دل کو نہ دل کی خبر مجھے

دیوانہ کر گئی ہے کس کی نظر مجھے

کیسے قرار آئے مرے دل کو ہم نشیں

پھرتی ہے تیری یاد لیے در بدر مجھے

منزل کے پاس آ کے ہوئے دونوں دو طرف

میں ہمسفر کو بھول گیا ہمسفر مجھے

بیتے دنوں کے زخموں کا کرتا میں احتساب

مہلت جو دیتی گردش شام و سحر مجھے

ہوتی ہے ایک رات چراغوں کی زندگی

یہ درس دے رہا ہے چراغِ سحر مجھے

چاہے کوئی تو پیار سے کر لے مجھے اسیر

نفرت سے زیر کر نہ سکے گا مگر مجھے

معصوم میرے حق میں وہ انمول ہیں رتن

قدرت نے جو عطا کیے لعل و گہر مجھے


معصوم شرقی

No comments:

Post a Comment