لفظوں کے جال میں کیوں الجھا ہے نادان ہے کیا
اِذن ملنا غمِ دل کہنے کا، آسان ہے کیا
کسی کی یاد مِرے دل میں اذاں دیتی ہے
میرے دل میں جو بسا ُہے وہ مسلمان ہے کیا
آگ لگتی ہے تو ہوتا ہے دُھواں بھی ہر سُو
اب تلک میری محبت سے وہ انجان ہے کیا
سارے زخموں کو ہرے کرتا ہے اک تیرا خیال
یاد تیری مِرے زخموں کی نگہبان ہے کیا
زخم اب کوئی نیا دیتا نہیں ہے مجھ کو
بے وفا اپنی جفاؤں پہ پشیمان ہے کیا
آشنائی کی جھلک اس کی نگاہوں میں نہیں
آنے والے کسی خطرے کا یہ اِمکان ہے کیا
ایک اک پل یہ جُدائی کا ہے صدیوں پہ محیط
اور اس طرح سے جینا کوئی آسان ہے کیا
درد اتنا ترے لہجے میں کہاں سے آیا
تیرے کمرے میں کہیں میر کا دیوان ہے کیا
آندھی سی اٹھتی ہے فرزانہ کے دل میں ہر پل
اس کے سینے میں بھی برپا کوئی طوفان ہے کیا
کسی کی یاد مرے دل میں اذاں دیتی ہے
میرے دل میں جو بسا ہے وہ مسلمان ہے کیا
فرزانہ پروین
No comments:
Post a Comment