لوٹا دو
لو! آج میرے سارے خواب توڑ دو
بہت سنبھال کر رکھا ہے جن رتجگوں کو پلکوں پر
وه سارے کے سارے آج مجھے لوٹا دو
میری وه الہڑ عمر، وه بانکپن
وه میرے عارض کی دھنک رنگ رنگت
وه میری کھنکتی ہنسی
وه بے فکری کے دن
ہو سکے تو سب لوٹا دو
نہ کر سکوں کچھ واپس
تو کم از کم میرا دل ہی لوٹا دو
مونا شہزاد
No comments:
Post a Comment