حکم ہے اُس کا کہ سچ ہر بات کہنا چاہیے
رات کو دن اور دن کو رات کہنا چاہیے
یہ جو دریا بہہ رہا ہے شور اس کا وصف ہے
دل کا دریا خاموشی کے سات بہنا چاہیے
یوں بھی دینا چاہیے اُن کے سوالوں کے جواب
کچھ خیالِ خاطرِ جذبات رہنا چاہیے
غیر تو پھر غیر ہیں یہ بھلا سمجھیں گے کیا
دوستوں سے بھی تو کوئی بات کہنا چاہیے
زندگی! اب تُو بتا دے کیا ہے تیرا فیصلہ؟
کیا ہمیں اک دوسرے کے سات رہنا چاہیے
تم ہی رخسار! پہناؤ لباس الفاظ کے
یوں اشاروں میں نہ ساری بات کہنا چاہیے
رخسار امروہوی/رخسار امروہی
سیدہ رخسانہ زہرا
No comments:
Post a Comment