Tuesday, 29 September 2026

دل ہوتے ہوتے منزل جانانہ ہو گیا

 دل ہوتے ہوتے منزل جانانہ ہو گیا

آباد رفتہ رفتہ یہ ویرانہ ہو گیا

وہ ہیں کہ دو جہان کو اپنائے جاتے ہیں

میں ہوں کہ اپنی ذات سے بیگانہ ہو گیا

جلنے کا شوق اف ترے کشتے کی خاک کا

جو ذرہ اڑ گیا وہی پروانہ ہو گیا

تیری تجلیوں نے وہ بدلی ہیں صورتیں

میرا خیال ایک پری خانہ ہو گیا

وہ راہ راہ عشق ہے جس میں کہ رہ نورد

دیوانہ جو ہوا وہی فرزانہ ہو گیا

مستی کی لغزشوں کو تھا احساس بندگی

گرنا ہی میرا سجدۂ شکرانہ ہو گیا

ساقی کی آنکھ میں وہ بلا کی شراب تھی

بد مست اک نگاہ میں مے خانہ ہو گیا

بیگانگی میں شاد ہوں میں اس خیال سے

تیرا وہی ہے سب سے جو بیگانہ ہو گیا

بزم قدح کو دیکھ کے خود غرضیوں سے پاک

نامی شریک مسلک رندانہ ہو گیا


منظور حسن نامی

No comments:

Post a Comment