دل نے پھر آج تجھے یاد کیا ہے چُپکے سے
جیسے کوئی خواب سجاتا ہے چپکے سے
ہم نے ہنس کر بھی دُکھ چھپائے ہیں دنیا سے
دل مگر رات کو رو جاتا ہے چپکے سے
وہ جو کہتے تھے کبھی چھوڑیں گے نہ ساتھ میرا
آج وہی ہاتھ چُھڑا جاتا ہے چپکے سے
کوئی پُوچھے تو بس اتنا ہی کہا کرتے ہیں
سب ٹھیک ہے، دل بھی بہل جاتا ہے چپکے سے
عشق میں ہار کے بھی جیت کا احساس ہوا
کوئی اپنا ہی سِکھا جاتا ہے چپکے سے
جمیل اس درد کو لفظوں میں چُھپانا کیسا
دل جو ٹُوٹے تو بتا جاتا ہے چپکے سے
جمیل اجمیری
No comments:
Post a Comment