Wednesday, 1 April 2026

دل نے پھر آج تجھے یاد کیا ہے چپکے سے

 دل نے پھر آج تجھے یاد کیا ہے چُپکے سے

‏جیسے کوئی خواب سجاتا ہے چپکے سے

‏ہم نے ہنس کر بھی دُکھ چھپائے ہیں دنیا سے

‏دل مگر رات کو رو جاتا ہے چپکے سے

‏ وہ جو کہتے تھے کبھی چھوڑیں گے نہ ساتھ میرا

‏آج وہی ہاتھ چُھڑا جاتا ہے چپکے سے

‏کوئی پُوچھے تو بس اتنا ہی کہا کرتے ہیں

‏سب ٹھیک ہے، دل بھی بہل جاتا ہے چپکے سے

‏عشق میں ہار کے بھی جیت کا احساس ہوا

‏کوئی اپنا ہی سِکھا جاتا ہے چپکے سے

‏جمیل اس درد کو لفظوں میں چُھپانا کیسا

‏دل جو ٹُوٹے تو بتا جاتا ہے چپکے سے


جمیل اجمیری

No comments:

Post a Comment