پرانی ہاتھ میں رکھتے، نئی بھی مانگتے ہیں
خوشی کے بدلے میں ہم لوگ اداسی مانگتے ہیں
ہمارے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں دُعا کے سوا
تو ہم بوقتِ ضرورت دُعا ہی مانگتے ہیں
ہمیں پتہ ہے کہ عرصہ گزارنا ہے ہمیں
ہم اس لیے تو قفس میں بھی کھڑکی مانگتے ہیں
تمہیں یہ زیب نہیں دے گا تم مجھے مانگو
دُعا جو مانگنی پڑ جائے اچھی مانگتے ہیں
ہم ایسے کم نسبوں کے شکم وہ دوزخ ہیں
کہ جن کو بھر دیا جائے تو پانی مانگتے ہیں
ذکی عاطف
No comments:
Post a Comment